ٹانکے کا کام

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ٹانکا کی جمع، سیون، سلائی کا کام۔ "جوتی پھٹ جاتی تو خود گانٹھ لیتے تھے، ڈول میں ٹانکے لگا دیتے تھے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٤:٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'ٹانکے' کے ساتھ 'کا' بطور حرف اضافت لگانے کے بعد فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'کام' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٤ء میں "جنگ نامہ دو جوڑا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ٹانکا کی جمع، سیون، سلائی کا کام۔ "جوتی پھٹ جاتی تو خود گانٹھ لیتے تھے، ڈول میں ٹانکے لگا دیتے تھے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٤:٢ )

جنس: مذکر